en-USar-EGfr-FR
Language
Menu
  1. الرئيسية
  2. عن الكلية
  3. هيئة التدريس
  4. الأقسام
  5. شؤون الدراسة
  6. وحدة ضمان الجودة
  7. خدمات طلابية
  8. اتصل بنـا

المؤتمر الدولي الرابع للغات الشرقية

  • 7 نوفمبر 2018
المؤتمر الدولي الرابع للغات الشرقية

تعقد كلية اللغات والترجمة - جامعة الأزهر بالقاهرة مؤتمرها الدولي الرابع للغات الشرقية تحت عنوان "وسائل التواصل الاجتماعي واللغات الشرقية" وذلك يوم السبت والأحد الموافقان العاشر والحادي عشر من شهر نوفمبر ٢٠١٨م.

يُعقد المؤتمر تحت رعاية فضيلة الأستاذ الدكتور/ محمد المحرصاوي رئيس الجامعة وبرئاسة السيد الأستاذ الدكتور/ طه بدري عميد الكلية. ويحل السيد الأستاذ الدكتور/ يوسف عامر نائب رئيس الجامعة لشئون التعليم والطلاب كضيف شرف للمؤتمر

يحضر المؤتمر نخبة من أساتذة اللغات الشرقية بمختلف الجامعات المصرية والدولية

رئيس المؤتمر

الأستاذ الدكتور/ طه بدري عميد الكلية

منسق المؤتمر

الأستاذ الدكتور/ توفيق علي توفيق وكيل الكلية لشئون الدراسات العليا

مقررا المؤتمر

أ.م.د. خالد السيد عبد اللطيف

أ.م.د. عبد الرحيم عبد الغني

ملخصات الأبحاث المشاركة في المؤتمر

  1. جدیدٹکنالوجی، سوشل میڈیا اور اردو زبان و ادب :

مضمرات و امکانات

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین 

ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو  یونیورسٹی، نئی دہلی

چئیرمین ورلڈ اردو ایسوسی ایشن

ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا دور حاضر میں مسلمہ اہمیت کے میدان ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ آج اور آنے والے کل کی جملہ ترقی کا محور بڑی حد تک یہی شعبے ہوں گے۔ الیکٹرونک عہد، ڈیجیٹل عہد اور سائبر ایج جیسی اصطلاحیں عہد جدیدکی برق رفتارترقی کا استعارہ ہیں۔ ڈیجیٹل  ٹکنالوجی کی دنیا میں رونما ہونے والی نت نئی انقلابی پیش رفت نے کمپیوٹر کے ہارڈڈسک ، پین ڈرائیو کے بعد مائیکرو چِپس نے ’علا ء الدین کے چراغ‘جیسے محض مجازی علائم کو حقیقی پیراہن عطا کیا ہے۔لیکن اس سے بھی حیرت انگیز ایجاداسمارٹ فون اور ٹَچ اسکرین کی ہے  جس نےدنیا کو اپنی   کرشماتی     تکنیک سے نہ صرف مسحور کر رکھا ہے بلکہ انسانوں کواس دلفریب  دنیا میں محصور کردیا ہے ۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ صدی امکانات کی صدی ہے ، محسوس ہوتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی نے اپنی پیہم کامیابیوں سے ناممکنات (Impossibilities)کو شکست فاش دے دی ہے۔ معلومات اور علم و آگہی کے میدان میں ٹکنالوجی سے آراستہ سوشل میڈیا کی حالیہ پیش رفت ان معنوں میں زیادہ توجہ طلب ہے کہ اس نے اقدار ِحیات ، تمدن ، ثقافت ، اور زبان کو مقامیت اوراجنبیت کے حصار سے باہر نکال کر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ علاقائی،قومی اور ملکی سرگرمیوں کے دائرے میں وسعت پیدا ہو اور زبان ، تمدن اور علمی سرمایہ نئی پہنائیوں میں خود مختارانہ تعمیر و ترقی کی اونچائیوں کو چھو سکے اور خود کو ترقی یافتہ زبان اور تمدن کے با لمقابل دیکھ سکے۔   دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں  نئی ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا نے زبان وادب  کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں نئے امکانات تلاش کرنے کا حسین موقع  فراہم کیا ہے ۔ 

  1. سوشل میڈیا اوراُردوزبان

پروفیسرشہاب عنایت ملک

صدر شعبۂ اردو، جموں یونیورسٹی، جموں وکشمیر

سوشل میڈیاآج انفرادی اورجماعتی سطح پراپنے خیالات اورتصورات کی ترسیل وابلاغ کاایک اہم وسیلہ بن چکاہے ۔علمی وادبی مناقشے ہوں یاسیاسی وسماجی مباحث ، سائنسی وماحولیاتی موضوعات ہوں ۔خواہ عوامی مسائل ہرکسی موضوع پرانسانی افرادبہ زبان اُردواپنے ذوق،دلچسپی اوررازداری کے موافق فیس بُک ،واٹس ایپ ،ٹوئٹر،انسٹاگرام اوردیگردرجنوں کیابلکہ سینکڑوں سوشل سائٹس کے ذریعہ اظہار خیال کرتے ہیں۔ابتداً سوشل میڈیا کے ذریعے اُردوبولنے والے اُردورسم الخط استعمال کرنے لگے ہیں جب کہ ابھی بھی ایک بڑی تعدادایسی ہے جواُردورسم الخط سے ناآشناہونے کی وجہ سے رومن رسم الخط میں اپنامافی الضمیر اداکرتی ہے لیکن اگران میں مزید اُردورسم الخط کاشوق پیداہوجائے تویہ بڑی تعداداُردورسم الخط سے قریب چھ ماہ میں واقف ہوسکتی ہے ۔

سوشل میڈیاکی مختلف سائٹس کے مشاہدے سے معلوم ہوتاہے کہ ہماری نوجوان نسل کلاسیکی شاعری کی طرف متوجہ ہورہی ہے ۔چوں کہ وہ اپنے خیال کے اظہارکے لیے کلاسیکل اورجدیدشعراء کے اشعار اپنی ضرورت کے مطابق لکھتے اورشیئرکرتے رہتے ہیں۔ دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ،جوابھی شعروادب کی دُنیامیں نووارد ہے اوروہ بڑے پیمانے پربڑی ادبی شخصیات کے روبرواپنے تخلیقی نتیجۂ فکر کوپیش کرنے کی جرأت نہیں رکھتے مگر وہ توقلم کاراورنوواردشعرکہنے والے افرادسوشل میڈیاکے ذریعے اپناکلام سُنااورلکھ کرشیئربھی کردیتے ہیں ۔اس پرانہیں ہلکی پھلکی داد کے علاوہ بعض دفعہ ہلکی سی اصلاح بھی مل جاتی ہے۔اس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے نئے افرادکی کسی حدتک ذہن سازی ،تحریرسازی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی ہوجاتی ہے ۔روزبروز یہ سلسلہ دراز ہورہاہے۔

  1. اردو زبان و ادب پر سوشل میڈیا کے اثرات

ڈاکٹر محمد کاظم

اسوشیئٹ پروفیسر، شعبہ اردو

دہلی یونیورسٹی، دہلی، بھارت

موجودہ دور سوشل میڈیا کادورکہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا دور ہے جس میں ملکوں کی سرحد  یں معدوم ہو چکی ہیں۔سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ اظہار ہے جس کے ذریعے  کسی بھی طرح کی خبر، متن ، تصویر یا ویڈیو کو دنیا کے کسی بھی کونے میں براہ راست  آن لائن پہنچا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان ذرائع کی مدد سے ایک دوسرے سے گفتگو بھی کر سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ذرائع ذاتی گفتگو کے لیے بھی ہوتے ہیں، کوئی بھی اس خبر، متن، تصویر یا ویڈیو کو دیکھ اور سن سکتا ہے۔ اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے۔ان  سوشل میڈیا میں فیس بک،   واٹس ایپ، گوگل پلس، مائکرو بلوگنگ، ٹویٹر، ٹمبلر، انسٹا گرام، اسنیپ چیٹ، پنٹرسٹ، یو ٹیوب، فیس بک لائیو،  وائبر، لائن، وائی وائی، پیرس کوپ اور ویمیو وغیرہ اہم ہیں۔ ان تمام سوشل میڈیا میں فیس بک کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ ۲۰۱۷ کے ایک سروے کے مطابق کم و بیش ۱۴۹ ممالک میں اس کا استعمال کثرت سے کیا جا رہا تھا۔  باقی سوشل میڈیا کا نمبر اس کے بعد ہی آتا ہے۔سوشل میڈیا نے وقت اور جغرافیہ کو  اس طرح مختصر کردیا ہے کہ ادھر آپ نے کچھ پوسٹ کیا اور دوسرے  ہی لمحے دنیا کے کسی بھی حصے میں اس کی ترسیل ہو گئی اور فوراً اس کا جواب یا اس پر کمنٹ بھی آگیا۔ اور یہ سلسلہ جب تک  آپ  آن لائن رہیں یا جب تک آپ چاہیں بتدریج جاری رہ سکتا ہے۔ 

ہر زبان کی اپنی مخصوص تہذیب ہوتی ہے اسی طرح اردو   نہ صرف ایک زبان کا نام ہے بلکہ ایک ایسی تہذیب کا نام ہے جس کی مثال دنیا میں خال خال ملتی ہے۔ سوشل میڈیا اور اردو زبان و ادب پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک جانب زبان کو نہ صرف عام لوگوں تک پہنچانے بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے اردو دوست تک اس کی رسائی کرانے میں  سوشل میڈیا معاون ثابت ہوا ہے تو دوسری طرف ادب کو اس کے قارئین کے لیے  با آسانی مہیا کر نے کی کامیاب کوشش  ہے۔ زبان کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو سوشل میڈیا نے اس پر کچھ زیادہ ہی اثر ڈالا ہے۔ چوں کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد قدرے زیادہ ہے۔ گلوبلائزیشن اور آزادی اظہار کے اس دور میں نوجوانوں کے پاس ایک تو کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور دوسرے وہ ہمیشہ جلدی میں رہتا ہے۔ اس لیے ان میڈیمس کے لیے لکھتے وقت اسی جلد بازی سے کام لیتا ہے اور متن کو لکھنے کے بعد اسے دوبارہ پڑھنا تو دور کی بات اس متن کے املا کو بھی دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا۔ دوسری جانب وہ انگریزی کی مانند اردو کے الفاظ کو بھی مختصر لکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نتیجتاً نہ تو لفظ مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی جملہ۔ بعض اوقات وہ انگریزی اور اردو کے الفاظ کو ایسے خلط ملط کرتا ہے کہ اس لفظ کی شناخت مشکل معلوم ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر السلا م علیکم کو رومن رسم خط میں ’اسک‘ اور وعلیکم السلام کو ’وسلم‘ لکھتے ہیں۔یا اسی طرح کے بہت سے الفاظ اختراع کر لیے گئے ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اب اردو جاننے والی نئی نسل اردو رسم خط سے کم واقف ہے  اور جو واقف ہے  انھیں اردو کی بورڈ سے واقفیت نہیں ہے۔اور ایسے لوگ انہیں الفاظ یا جملوں کو کاپی پیسٹ کرتے رہتے ہیں جو انھیں با آسانی نل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئی نسل نے ایک ایسی زبان کا اختراع کر لیا ہے جسے عام زبان میں ’اردوئش‘ کہا جاتا ہے۔یعنی وہ اردو اور انگریزی کے الفاظ کو ملاکر کچھ نئے الفاظ گڑھ لیے ہیں جو اکثر عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔لہٰذا زبان کے استعمال کے حوالے سے سوشل میڈیا نے اتنا اثر ڈالا ہے کہ اسے برتنے میں ہم نے اپنی توجہ کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میڈیم پر استعمال ہونے والی زبان میں نہ توپختگی نظر آتی ہے اور نہ ہی سنجیدگی۔ 

 موجودہ دور میں ادیب و شاعر کی ایک’ سوشل میڈیا فیملی ‘ہے۔ شاعر و ادیب کا ایک ایسا عالمی حلقہ قائم ہو چکا ہے جس سے ہم جسمانی طور پر کہیں بھی مقیم ہوں ذہنی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہو چکے ہیں۔اپنی اپنی نگارشات سے اس حلقے کو باخبر رکھتے ہیں اور اب تو اصلاح کا کام بھی اس کے ذریعے لے رہے ہیں۔ پہلے استاد کی خدمت میں حاضر ہوکر ، ان کے قدموں میں بیٹھ کر اصلاح لی جاتی تھی اور استاد تربیت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دوسری صورت میں خط لکھ کر اصلاح کا کام لیتے تھے اور موقع ملنے پر خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ اب یہ ذمہ داری سوشل میڈیا نے اپنے سر لے لی ہے اور بعض اوقات ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہ جانتے ہوئے بھی یہ کام لیا اور کیا جارہا ہے۔ اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے شاگرد اور استاد کو ایک دوسرے سے ملنے کا کبھی موقع میسر نہیں آتا۔ کیوں کہ  اب سوشل میڈیا کے ذریعے شعر و ادب کو دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر انھیں شائع بھی کیا جاتا ہے اور اس کے مطالعے کے بعد اس پر تبصرے بھی شائع ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات اس پر لائیو مکالمہ و مباحثہ بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی ادب کو رد و قبول کیا جاتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس پر سنجیدہ ادب کو وہ توجہ نہیں ملتی جتنی توجہ ہلکے پھلکے ادب پر دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ ادیب اور ادب اب تک سوشل میڈیا سے دور ہی نظر آتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب مراسلہ یعنی خط کو محفوظ رکھا جاتا تھا اور ایک خاص وقت کے بعد بھی اس کا مطالعہ کیا جاتا تھا تو اس کی ادبی اہمیت یا تاریخی اہمیت کا احساس بخوبی ہوتا تھا۔ ان خطوط کو لوگ اپنی زندگی میں بھی شائع کرواکے اس سے آنے والی نسل کو ترغیب دینے کا کام کرتے تھے۔ ہمارے سامنے ایسے بہت سے نمونے موجود ہیں۔ ان میں غالب، سرسید، شبلی، علامہ اقبال، فیض، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار جعفری وغیرہ کے خطوط اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر لکھی تحریریں نہ تو اس پائے کی ادبی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی تاریخی اہمیت رہ پاتی ہے۔ کیوں کہ اول تو ہم کچھ سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی لکھتے رہتے ہیں۔  ان تحریروں کے پس منظر میں تربیت کا عنصر تو کبھی ذہن میں ہوتا ہی نہیں ہے۔ کیوں اکثر ہم ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔دوئم پہلے پوسٹ کی جا چکی تحریر کو کم ہی دیکھتے ہیں یا اس کو حوالے  میں لاتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے ادب کو عوام تک پہنچانے میں اہم کارنامہ انجام دیا ہے ۔ آج کے دور میں بہت سی کتابیں اور مضامین آئے دن سوشل میڈیا کے ذریعے بہت گروپ یا سائیٹ پر بھیجی جاتی ہیں جن کا مطالعہ واقعی سود مند ہوتا ہے اور باذوق قارئین کو ذہنی اور فکری غذا مہیا ہوتی ہے۔بہت سی ایسی سائٹ ہیں جہاں اردو ادب کا کلاسیکی سرمایہ موجود ہے اور آپ ایک کلک میں ان تک رسائی  کر سکتے ہیں۔تو  وہیں شعری ادب کی ترسیل میں نہایت غیر سنجیدگی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ کسی بھی اہم کلاسیکی شاعر کے کلام میں ترمیم و اضافے کے ساتھ خوب اشعار پوسٹ کیے جاتے ہیں اور وہ اس قدر شیئر کیے جاتے ہیں کہ اصل شعر ذہن میں آتا ہی نہیں ہے۔ اور نئی نسل تو کتاب دیکھنے کی بجائے انٹرنیٹ کا ہی سہارا لیتی ہے نتیجتاً اسی غلط شعر سے پھر انھیں واسطہ پڑتا ہے اور وہ اسے ہی درست سمجھ لیتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جب بھی کسی ادب پارے کو کسی بھی  سوشل میڈیا پر دیکھیں تو اسے درست ضرور کر دیں اور یہ تاکید بھی کریں  کہ آئندہ اس سے اجتناب کیا جائے۔ ساتھ ہی ہم اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ خود تو اردو میں درست زبان لکھیں اور دوسرے اردو والوں کو بھی اردو رسم خط میں صحیح زبان لکھنے کی ترغیب دیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو شاید آنے والے مزید تیز رفتار زمانے میں بھی اردو کا پرچم نہ صرف میڈیا بلکہ پوری دنیا میں بلند رہے گا۔

  1. سوشل میڈیا اوراردو ادب

ڈاکٹر محمد محسن

شعبۂ اردو،کیروری مل کالج۔یونیورسٹی آف دہلی، دہلی

اس صدی کا تعارف سائبر صدی کے طورپر کیا جارہا ہے۔موجودہ دورمیں سوشل میڈیا نے ہندوستان سمیت پوری دنیا کی زبانوں پردسترس حاصل کر لیا ہے۔اس کی گرفت اس قدرمضبوط ہے کہ آئے دن اس کی مقبولیت اورصارفیت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔سوشل میڈیا میں برقی ای میل،فیس بک،ٹوئیٹر،واٹس ایپ،انسٹاگرام،وائبر،ایمو اوریوٹیوب وغیرہ قابل ذکرہیں۔یہ تمام شکلیں سوشل میڈیا کی ہیں جن سے ملکی اورعالمی زبانیں بھرپوراستفادہ کررہی ہیں۔اردو زبان وادب کے لیے بھی سوشل میڈیا کافی معاون ومددگار ہے۔جب سے یونی کوڈ معرض وجود میں آیا ہے سرچ انجن نے اردو زبان میں کافی مواد ذخیرہ کرلیا ہے۔گوگل اور انٹرنیٹ کی طرف سے متعددسافٹ ویئر اور اپیلیکشنز کی سہولتیں دستیاب ہیں۔جن کا استعمال ہر اینڈرائڈ موبائل فون اور کمپیوٹر پر کیا جاسکتا ہے۔ان اپیلی کیشنز کے ذریعے تمام طرح کی جانکاری چند منٹوں میں حاصل کرسکتے ہیں۔اردو زبان پوری دنیا میں مقبول ہوتی جارہی ہے۔ عالمی زبانوں کی فہرست میں اردو انیسویں نمبر پر ہے۔ دنیا کی تیس مقبول اور معروف زبانوں کا اگر ہم جائزہ لیں تو اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے کہ اردو کو ایک نمایاں  زبان کی حیثیت حاصل ہے۔عالمی سطح پر اردو کے قارئین دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔ اردو زبان کی مقبولیت میں کیا سوشل میڈیا کا اپنا کوئی اہم رول ہے یا نہیں ؟ اس جانب غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر دیگر زبانوں کی جس طرح پذیرائی ہورہی ہے ، ٹھیک اسی طرح اردو کی بھی پذیرائی ہورہی ہے۔سوشل میڈیا کے جتنے بھی یونٹ ہیں ان پر اردو مواد وافر مقدار میں موجود ہے۔

  1. برطانیہ میں اُردو بطور بیرونی زبان، سامی زبان 

اور سوشل میڈیا

فہیم اختر (لندن)

اردو   ادیب اور ممتاز منشی

سوشل میڈیا آج دنیا میں مراسلات کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ روازانہ لاکھوں لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیغام اور بات چیت کو دوسروں تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکھنے اور سکھانے کے مواقع بھی ملنے لگے ہیں جس سے ہر عام و خاص فیضیاب ہو رہا ہے۔تاہم سوشل میڈیا سے جہاں لوگوں کو اپنی بات پیش کرنے میں آسانی ہورہی ہے وہیں لوگوں میں پریشانیاں بھی بڑھی ہیں۔میں سوشل میڈیا کے ذریعے اردو زبان کے فروغ اور اس کی بقا کے لیے روزانہ نہیں تو ہر ہفتے کئی پوسٹ شائع کرتا رہتا ہوں ۔ جس کا نتیجہیہ ہوا کہ کئی لوگ جو اردو زبان سے ناواقف تھے، انہیں اردو زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہونے لگا۔ اب تو لوگ شعر و شاعری اور میرے کالم پڑھ کر ، اس کے متعلق اردو رسم الخط میں جواب بھی دیتے ہیں۔ادبی نقطۂ نظر سے سوشل میڈیا کا دائرۂ کار دھیرے دھیرے پھیلتا جارہا ہے۔سوشل میڈیا پر اردو زبان وادب سے منسلک بے شمار افراد اپنی نگارشات آئے دن پیش کرررہے ہیں۔ جدید لکھاریوں کی پوری ٹیم اس اہم ٹکنالوجی پر ہمہ وقت موجود ہے ۔ سوشل میڈیا کے تمام ذرائع ابلاغ پر اردو ادب کے بیش بہا حصے پیش کردیے گیے ہیں۔ بے شمار ادبی گروپ، اردو کے اہم ادبا وشعرا کی تخلیقات کے ساتھ ان سے متعلق اہم معلومات سوشل میڈیا کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 

  1. دور الصحافة في التاريخ الإيراني الحديث والمعاصر

أ.م د. زينب محمد إبراهيم الدسوقي

أستاذ مساعد بقسم اللغة الفارسية وآدابها

كلية الدراسات الإنسانية-جامعة الأزهر

     لعبت الصحافة الإيرانية دورًا كبيرًا -منذ نشأتها-في الأحداث السياسية والثقافية والاجتماعية داخل المجتمع الإيراني على مر تاريخه الحديث والمعاصر. وقد واجهت العديد من الصعوبات في كثير من الأحيان، وبالرغم من ذلك؛ كان لها دور فعال في عملية التطور خلال العصر الحديث؛ حيث لعبت دورا مهمًا في بث أسس الحركة الوطنية منذ مطلع القرن التاسع عشر، منذ صدور أول جريدة رسمية في إيران بجهود المثقفين الذين سافروا في بعثات تعليمية إلى جماعات أوروبا، الأمر الذي جعل إيران تواكب التطورات في العالم الخارجي، ومنها المجال الصحفي فظهر العديد من الصحف والمجلات التي مثلت مختلف طوائف الشعب الإيراني في ذلك الوقت، وكان تعزيز روح القومية والصحو العام أحد ثمار هذا النشاط الصحفي   وخاصة خلال فترة الثورة الدستورية. ومنذ ذلك الحين ومع انتصار الثورة الإسلامية وقد استمر المجال الصحفي في عملية التحول والنضج. ومن هنا؛ جاءت أهمية تلك الصحف ودورها لدراسة التاريخ الإيراني الحديث والمعاصر. وسوف يتم استخدام المنهج التاريخي الوصفي في تناول هذا الموضوع، وقد تم تقسيم البحث كالتالي:

  1. إطلالة على نشأة الصحافة الإيرانية وأهم الصحف والمجلات بالداخل والخارج.
  2. دور الصحافة الإيرانية وأهم الصحف منذ نشأتها وحتى انتهاء الفترة الدستورية.
  3. دور الصحافة الإيرانية بعد الثورة الدستورية وحتى الثورة الإسلامية.
  4. دور الصحافة بعد الثورة الإسلامية. 

هذا وسيحاول البحث الإجابة عن هذه التساؤلات:

- هل اختلف دور الصحافة الإيرانية في الداخل والخارج منذ النشأة وحتى الآن؟

- ما هي أهم الصحف والمجلات التي لعبت دورا مهما في حياة الشعب الإيراني وما هي الصعوبات التي واجهتها خلال الفترات المختلفة؟

  1. دور المدونات الإلكترونية الإيرانية فى نشر المذهب الشيعي

" مدونات التعزية نموذجًا"

د. فاطمة الزهراء جمال الدين محمد عبد الرحمن

مدرس اللغة الفارسية وآدابها بقسم اللغات الشرقية كلية الآداب – جامعة حلوان

تتناول هذه الدراسة واحدًا من الموضوعات المهمة التي تتعلق بنشر المذهب الشيعي وترويجه خارج إيران في العديد من بقاع العالم، وطرائق ترويجه مثلما يحدث من خلال الإعلام الشيعي والقنوات الفضائية التي تمارس الترويج لهذا المذهب، كذلك عن طريق وسائل التواصل الاجتماعي عبر الشبكة العنكبوتية من خلال المدونات الإلكترونية؛ والتي أصبح لها دورٌ كبيرٌ في تدعيم الثقافة الإيرانية والترويج لأفكارها ونشر معتقداتها، ولا سيّما المذهب الشيعي، حيث نقلت هذه المدونات مساعي إيران حكومة وشعبًا إلى العالم الافتراضي.

يساعد هذا البحث على فهم الوسائل الجديدة التي تُستخدم ــــ بشكل غير مباشرـــــ في ترويج المذهب الشيعي ونشر أفكاره، وكذلك كيفية نقل فلسفة المؤسسة الحاكمة في إيران إلى المجتمعات الأخرى. فهي تساعد على عرض بعض المعلومات الضرورية في هذا الجانب. ولتحقيقهذهالغاية المرجوة تقوم الدراسة بتسليط الضوء على "مدونات التعزية" كنموذج تطبيقي. وتُعدُّ التعزية ـــــ منذ قرون عديدة ــــ مظهرًا من مظاهر المذهب الشيعي، رغم أن واقعة استشهاد الحسين رضوان الله عليه وبعض آل البيت معه إنما هي واقعة تاريخية وجزء مهم من تاريخ عامة المسلمين سواء سُنة أو شيعة. وقد اعتمدت الدراسة على المنهج الوصفي إلى جانب المنهج الاستقرائي.

  1. استثمار وسائل التواصل الإجتماعي في تعليم اللغة الفارسيةوتدريسها

د. مسعود إبراهيم حسن علي

مدرس اللغة الفارسية – كلية الآداب- جامعة كفر الشيخ  

يعيش الشباب اليوم في ظل عالم تقني وافتراضي سيطر على اهتمامتهم وأخذ الكثير من أوقاتهم، ومن أبرز تلك الاهتمامات وسائل التواصل الاجتماعي التي توفرت لهم من خلال شبكات اجتماعية على الإنترنت مثل (فيس بوك-تويتر – تليجرام-واتس اب – يوتيوب – شات). 

وقد تغيرت الكثير من المفاهيم والتصورات حول طرق التعليم وأساسياتها تزامنًا مع هذه التطورات الكبيرة وانتشار وسائل التواصل الاجتماعي؛ إذ أصبح العالم كله كتلة واحدة متصلة ببعضها البعض.

واللغة الفارسية شهدت توسعًا وانتشارًا في مصر والعالم العربي، لا سيما في العقد الأخير، وأصبح قسم اللغات الشرقية المعنى بتدريس هذه اللغة منتشرًا في أغلب الجامعات الحكومية، كما أصبحت اللغة الفارسية إحدى أهم اللغات المطلوبة للعمل في مراكز الأبحاث والصحف في مصر وبعض الدول العربية في الفترة الأخيرة نظرًا لتطور الأحداث السياسية في المنطقة والدور الإيراني فيها. 

والفارسية كغيرها من اللغات تحتاج إلى التواصل والتحدث مع الناطقين الأصليين بها، ولكن مع توقف كل التفاعلات مع إيران وتوقف الزيارات المتبادلة والإحتكاك المباشر مع أهل اللغة والتي كانت إحدى أهم آليات تعلم الفارسية، لم يتبقَّ لدارسي الفارسية سوى باب واحد لممارسة هذا التواصل؛ ألا هو التواصل عبر وسائل التواصل الاجتماعي.

هذه الدراسة تبرز الدور الذي يمكن أن تقوم به وسائل التواصل الاجتماعي بمختلف أنواعها كأداة جديدة لتعليم الفارسية وتدريسها والتواصل مع الناطقين الأصليين بها، ولكن هذه الأداة والآلية بحاجة إلى الإستثمار الفعال والهادف. وما هي الوسائل المناسبة للاستفادة من هذه الآليات في تطوير برامج تدريس اللغة الفارسية في الجامعات المصرية. كما تسعى الدراسة إلى إلقاء الضوء على القنوات الخاصة باللغة الفارسية عبر وسائل التواصل الإجتماعي وكيفية الإستفادة بها في أقسام اللغة الفارسية (برنامج رحلة مع الفارسية –قناة الكوثر الإيرانية نموذجا).

الكلمات المفتاحية: اللغة، وسائل التواصل الاجتماعي، استراتجيات التعلم.

  1. الصفة في اللغة العربية والتركية العثمانية والفارسية دراسة نحوية تطبيقية على كليلة ودمنه نموذجًا

أ/ شرين شوقي عبد المعطى احمد 

باحثة –جامعة الاسكندرية

الصفة في اللغة العربية هي التابع المشتق أو المؤول به، أما في الفارسية والتركية العثمانية فهي كلمة تضاف إلى الاسم (الموصوف) لتوضح الحالة والكيفية أو وحدة من خصوصيات الاسم سواء أكان هذا الاسم شخصًا أم شيئًا.

ويتلخص البحث فى دراسة الصفة بتعريفها وأنواعها وموقعها والأحوال التى ترد فيها الصفة من حيث التذكير والتأنيث والإفراد والتثنية والجمع والتنكير والتعريف وحكم الصفة من حيث التقديم والتأخير وحذف الصفة والموصوف والأغراض التى وردت من أجلها الصفة فى كل لغة على حِدةٍ وينقسم البحث إلى ثلاث فصول:

الفصل الأول: الصفة في اللغة العربية دراسة نحوية تطبيقية على كليلة ودمنة نموذجًا.

الفصل الثاني: الصفة في التركية العثمانية دراسة نحوية تطبيقية على كليلة ودمنة نموذجًا.

الفصل الثالث: الصفة فى اللغة الفارسية دراسة نحوية تطبيقية على كليلة ودمنة نموذجًا.

  1. "قراءة في ادب وسائل التواصل الاجتماعي الصينية"

ادب الواي شات نموذجا

أ.م.د/ رشا كمال 

أستاذ مساعد الأدب الصيني والترجمة - رئيس قسم اللغة الصينية جامعة بدر

 يهدف البحث لتوضيح ماهية التواصل الاجتماعي و شبكاته مع المرور السريع علي تاريخ إنشائها و تطورها عالميا و في الصين خاصة.ثم التعرف علي وسائل التواصل الاجتماعي المنتشرة داخل الصين فقط،و من منها مرتبط بالأدب و إبداعاته.و اخيرا الاقتراب من الويتشات. و التعرف علي الإبداعات الأدبية التي تظهر بين ضفتيه ووسائله المختلفة. مع التطرق لمستقبل تطور هذا الأدب. الكلمات المفتاحية شبكات التواصل الاجتماعي - الويتشات- ادب الويتشات - حسابات الويتشات العامة

  1. " لغة الواي شين"

دراسة بينية

د.شيماء كمال 

قسم اللغة الصينية كلية الآلسن جامعة بني سويف  

      ان الهواتف الذكية والاجهزة اللوحية منتجات عصر المعلومات ،وهي وسائل تواصل عملية للغاية حتي صاراقتناء هذه الاجهزة عادة حياتية شائعة ،بل و تعملقت وأصبح من الصعب الاستغناء عنها . لقد اعتادنا أن نستخدم الهاتف لاجراء مكالمة لعقود ، ولم يقدم لنا الهاتف أي تقنيات مبتكرة طوال هذه السنوات ، لكن لقد اتيحت حاليا الهواتف الذكية والتي تتمتع بقدرات تواصل مميزة وفريدة . حيث يمكننا تحميل العديد من التطبيقات ،خاصة تطبيقات التواصل الاجتماعي Facebook-twitter-weixn-weibo-qq-instagram-telegram -snabchat-whatsapp.

      تري الباحثة أن تطبيق واي شين هو واحد من أهم تطبيقات التواصل الاجتماعي بالصين والعالم فلقد غطي هذا التطبيق 94%من هواتف الصين الذكية عام 2016، ويغطي 200دولة و تخطي عدد اللغات المستخدمة به العشرين لغة . إن تطبيق الواي شين يقدم منصة إجتماعية وغرف صداقة للأصدقاء وكذلك خدمات أخبارية وإعلانية .إن هذا البحث يختص بدراسة لغة الرسائل النصية القصيرة المتبادلة بين الأصدقاء علي الواي شين ، فمعادل البحث هو لغة الواي شين ، حيث يعتقد البعض أنها عملية تحديث للغة ،بينما يعتقد البعض الآخر أن هناك علاقة وثيقة بين لغة الواي شين ولغة الانترنت ، بل وذهبوا لتسميتها بأنها ميلاد جديد للغة الانترنت ،تتميز لغة الواي شين بالبساطة وإستخدام صورورسومات بديلاً عن الرموز الصينية . سيعمل البحث علي تقديم نبذة عن خصائص لغة الواي شين و الإشكاليات الناتجة عن ظهور هذه اللغة . 

الكلمات المفتاحية :الواي شين    اللغة       الهواتف الذكية 

  1. 微信的

跨科学研究

莎蜜博士

夫大学言学院中文系

      手机及平板是信息时代的产品,并作为实用的通讯工具,手机及平板是大众生活的时尚,天天成为不可少的交际工具。以前用手机打电话,没有那么多的功能,而目前现有的智能手机具有太了不起的通讯功能。手机上、平板里可以下载很多的应用程序,特别是社会交际的应用程序。Facebook 、twitter 、weixn 、weibo 、qq、instagram、telegram 、snabchat 、及whatsapp等。

       笔者认为weixin_________本种交际的应用程序是世界上及中国最重要之一,2016年微信已经覆盖中国94% 以上的智能手机,月活跃用户达到8.06亿,用户覆盖200 多个国家、超过20 种语言[1]。微信提供公众平台、朋友圈消息和广告推送等功能。本论研究朋友圈上的短信语言,本论的研究对象是微信语言,有一些人认为这种现象是语言的变体,别的人认为这的局面还强调微信语言同网络语言的密切关系,可以把它称为网络语言的新圣诞。微信用比较简单的语言并用一些特殊符号替传统的汉字。本论试图讨论中国微信的语言特征、本语言使用存在的问题。

键词微信         智能手机

  1. الشاعر التركي أحمد قدسي تجر

أ/ حمادة إسماعيل شعبان

مدرس اللغة التركية المساعد بكلية اللغات والترجمة جامعة الأزهر

 يتناول الباحث في هذا البحث، حياة الشاعر التركي "أحمد قدسي تجر"، والحياة السياسية والثقافية في عصره إضافة إلى مؤلفاته الأدبية، وذلك من خلال أربعة عناوين على النحو الأتي:     

  1. اطلالة على أهم الأحداث السياسية في الفترة من 1901 وحتى 1967. 
  2. إطلالة على الحياة الثقافية والأدبية في الفترة من 1901 وحتى 1967.
  3. الشاعر أحمد قدسي تجر

ويهدف الباحث من هذا البحث إلى إطلاع القارئ على حياة الشاعر "أحمد قدسي تجر"، وأهم القضايا السياسية، والأدبية في عصره، وأهم أدباء جيله، ومكانته بين هؤلاء الأدباء، هذا بالإضافة إلى مؤلفات الشاعر وإنتاجه الأدبي. 

  1. تأثير التواصل الاجتماعي على اللغة التركية

 بين الماضي والحاضر والمستقبل

د. طاهر محمد محمد مرزوق 

قسم اللغات الشرقية شعبة اللغة التركية- كلية الآداب – جامعة حلوان

عاش الأتراك حياة البداوة في أول عهدهم، وكانت لغتهم محدودة بالشكل الذي يتلاءم مع بيئة الرعي التي كانوا يعيشون فيها على مدى قرون طويلة، وقد تحركوا خلال هذه القرون الطوال على رقعة جغرافية شاسعة بحثًا عن المراعي وانتهى بهم المطاف في وطن غير الذي كانت فيه نشأتهم. وخلال حركة الأتراك التاريخية والجغرافية حدث تماس وتداخل مع العديد من الشعوب والحضارات بعلاقات الجوار والمصاهرة والتجارة، أو الاشتراك في العرق أو الدين، وهو ما نتج عنه تأثرهم الكبير بالشعوب أصحاب الحضارة كالعرب والفرس وغيرهما، ونهلوا من ثقافة الشعوب والأمم التي احتكوا بها وتعايشوا معها خلال هجرتهم.

أولًا: موضوع الدراسة

بعد التداخل الكبير الذي حدث بين الأتراك والشعوب المحيطة بهم غزت الألفاظ الفارسية والعربية لغَتَهم حتى أصبحت الألفاظ الدخيلة أكثر من الألفاظ الأصيلة في اللغة التركية. وعلى المستوى الثقافي والفكري أيضًا كان هناك تأثير كبير؛ فقد تعلم الأتراك من تلك الأمم نظم العيش والحكم وكذلك أساليب الكتابة والفكر. واقتبس الكتاب الأترك من العرب والفرس أساليب الكتابة المختلفة كالشعر وبحوره وأوزانه، والنثر بكافة أشكاله الأدبية، وكتابة التاريخ والسير والملاحم وهو ما كان له عظيم الأثر على حياة الأتراك وثقافتهم ولغتهم. وبسبب هذا التأثر الكبير دعا بعض الأتراك -في حقبة من حقب تاريخهم-إلى التحدث باللغة العربية من كثرة الاعتماد عليها في لغتهم، ولكونها لغة الدين أيضًا، ولكن هذه الدعوة قوبلت بالرفض. ونظرا لهذا التأثر الكبير الذي سيطر على اللغة التركية في كافة المجالات تأتي هذه الدراسة لكشف أبعاد هذه القضية وتغطية جوانبها المختلفة ومعالجة كل ما يتعلق بها؛ خصوصًا في ضوء النقص الذي تعانيه المكتبة العربية في هذا المجال؛ علما بأن ميدان هذه الدراسة، فيما يتعلق بتأثير التواصل الاجتماعي سوف يقتصر على تناول الجانب اللغوي خلال حقب التاريخ المختلفة سواء في الماضي أو الحاضر، وتوقعات هذا التأثير في المستقبل.

ثانيا: أهداف الدراسة

لهذه الدراسة عدة أهداف أجملها فيما يلي:

  1. تسليط الضوء على اللغة التي كان يستخدمها الأتراك في مرحلة البداوة.
  2. توضيح التطور الذي طرأ على اللغة التركية بعد احتكاكهم بالفرس والعرب واعتناقهم الإسلام.
  3. الوقوف على شكل اللغة التركية بعد انتقال الأتراك من حياة البداوة وتكوين الدولة.
  4. التعرف على الفوارق بين اللغة التركية القديمة والحديثة والمعاصرة.
  5. إظهار التأثير الواقع على اللغة التركية بعد ظهور التكنولوجيا الحديثة.
  6. محاولة تخمين ما قد يطرأ على اللغة التركية من تغيير في المستقبل بسبب التأثير الواقع عليها من اللغات الأوروبية.

ثالثا: منهج الدراسة

طبيعة الدراسات اللغوية تقتضي اختيار المنهج الوصفي الذي يعتمد على دراسة الظاهرة كما توجد في الواقع، ويهتم بوصفها وصفًا دقيقًا ويعبّر عنها كيفيًا بوصفها وبيان خصائصها، وكميًّا بإعطائها وصفا رقميا من خلال أرقام وجداول توضح مقدار هذه الظاهرة أو حجمها أو درجة ارتباطها مع الظواهر الأخرى.وهو عملية تُقدَّم بها المادة العلمية كما هي. ولذلك فإنه يكون في نهاية المطاف عبارة عن دليل علمي. فهو يقوم على استقراء المواد العلمية التي تخدم إشكالا ما أو قضية ما وعرضها عرضا مرتبًا ترتيبًا منهجيًا.

رابعا: محاور الدراسة

تدور هذه الدراسة حول المحاور التالية:

  1. تاريخ اللغة التركية القديمة منذ النشأة.
  2. بدايات اللغة التركية الحديثة.
  3.  اللغة التركية المعاصرة.
  4. ظهور الإنترنت ووسائل التواصل الاجتماعي في تركيا.
  5.  تأثير وسائل التواصل الاجتماعي على فئات الشعب التركي.

خامسا: أهم نتائج الدراسة 

  1. أظهرت الدراسة التأثر الكبير الذي تميزت به اللغة التركية في طور التحول إلى حياة المدنية ومرحلة إنشاء الدولة.
  2. أوضحت الدراسة السيطرة الكبيرة للغتين العربية والفارسية على اللغة التركية في كافة جوانبها.
  3. بينت الدراسة مدى التأثير الذي تعرضت له اللغة التركية من اللغات الأوروبية – لا سيما اللغة الفرنسية -في العصر الحديث.
  4. ألقت الدراسة الضوء على تأثير وسائل التواصل الحديثة على اللغة التركية.
  5. توقعت الدراسة تأثير وسائل التواصل الاجتماعي على اللغة التركية مستقبلًا. 
  1. دور الــ (فيسبوك) في الحراك الأدبي في باكستان

د. عبد الرحيم عبد الغني محمد 

الأستاذ المساعد بقسم اللغة الأردية وآدابها

 كلية اللغات والترجمة ــ جامعة الأزهر

يعد الــ (فيسبوك) من أكثر مواقع التواصل الاجتماعي شيوعًا وانتشارًا بين مرتادي الشبكة الدولية للمعلومات (الانترنت)؛ حيث بلغ عدد مستخدميه ما يزيد عن المليارين حسب إحصائيات عام 2017م، فضلًا عن توافره بأكثر لغات العالم الحية؛ إذ يعد الموقع الأكثر استخدامًا وتصفحًا على الإطلاق حول العالم خلال السنوات القليلة الماضية، وهو مما لا شك فيه ظاهرة عالمية جديرة بالوقوف عليها ودراستها، لا سيما وقد أصبح من أهم الوسائل الحديثة في نشر الثقافة بين مختلف فئات المجتمع، كما أنه الوسيلة الأكثر قدرة على ترسيخ كثير من الأفكار والمعتقدات في عقول وأذهان الناس سواء أكانت هذه الأفكار والمعتقدات تنطوي على خير أم شر، ومن هنا تأتي أهمية مثل هذه الدراسات التي ترصد أثر هذا الموقع الخطير على شتى مناحي الحياة الإنسانية، خاصة ما يتعلق منها بالمجالات الثقافية والعلمية التي يلجأ فيها الكثير من مستخدمي موقع الفيسبوكإلى الاستفادة من إمكانياته في تطوير مهاراتهم ومعلوماتهم من خلال المجموعات الأدبية والعلمية المتوفرة على هذا الموقع الذي يعتبر من أهم وأخطر المنصات الإعلامية والاجتماعية في العصر الحديث.

هذا ويتناول البحث بالدراسة دور الفيسبوك في الحراك الأدبي في باكستان، وذلك من خلال مطالعة مجموعة من الصفحات الأدبية المعتبرة التي تُعنى بالأدب الأردي وقضاياه المعاصرة على موقع الفيسبوك، فضلا عن متابعة ورصد بعض الصفحات الخاصة بمجموعة من أدباء الأردية وبعض المؤسسات الأدبية المرموقة؛ قصد الكشف عن مدى تأثيرها على الساحة الأدبية في باكستان إيجابًا وسلبًا، وذلك من خلال استخدام المنهج المسحي المرتبط بتحليل المضمون؛ وهو منهج يهتم بدراسة الواقع بطريقة غير مباشرة من خلال مسح مضمون عشوائي لبعض المواد، سواء كانت تقارير أو دوريات أو مدونات أو برامج أو وغير ذلك من المواد التي تحتوي على معلومات من شأنها أن تفيد الباحث في دراسته، وتعينه على معالجة مشكلته البحثية.

  1. دور العربية الفصحى والعبرية القديمة في نقل الثقافات عن طريق التواصل الاجتماعي من خلال القرآنالكريم والعهد القديم

د. أمنية السعيد محمد 

أستاذ مساعد بكلية الآداب جامعة الطائف سابقًا                                  

التواصل هو الهدف الأول للكتب السماوية، فهي أداة التواصل المتداخل بين التواصل السماوي والأرضي بين الخالق والمخلوقات من ناحية، وبين المخلوقات بعضها البعض من ناحية أخرى، والتواصل الاجتماعي هو أحد سبل التواصل الهادف إلى الإعمار من خلال تناقل الأفكار والحضارات، ولأن اللغة ظاهرة اجتماعية فهي حاملة الثقافات والحضارات المقروءة والمكتوبة.

وما تحمله اللغة من صبغات تأثيرية يشكل وجدان الأجيال المتعاقبة وفكرها من خلال الكتب السماوية وتفسيرها ومدارس التدوين، والعلوم المتعلقة بهذه الكتب سواء أكان ذلك بشكل مباشر أم غير مباشر،والتحفظ في التعامل مع النص الديني ولغته بشكل خاص نظرًا لقداسته،فهذه الأمور في النهاية تعود إلى حقائق ثابتة، وقد لفت سفر التكوين الأنظار إلى وحدة اللغة ثم تشعبها ليرجعنا بذلك إلى الأصل اللغوي الواحد ومن ثم الاعتقادي.

 ( וַיְהִי כָל-הָאָרֶץ, שָׂפָה אֶחָת, וּדְבָרִים, אֲחָדִים... עַל-כֵּן קָרָא שְׁמָהּ, בָּבֶל, כִּי-שָׁם בָּלַל יְהוָה, שְׂפַת כָּל-הָאָרֶץ; וּמִשָּׁם הֱפִיצָם יְהוָה, עַל-פְּנֵי כָּל-הָאָרֶץ ([2](בראשית פרק יא / א: ט) فعلى الرغم من تشتت الألسنة وتعدد اللغات بعد توحدها يبقى الإيمان بالخالق الواحد هو المحور الذي تدور حوله الأديان (وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ)[3]، وهو ما أشار إليه سفر الخروج كذلك (לֹא-יִהְיֶה לְךָ אֱלֹהִים אֲחֵרִים, עַל-פָּנָי)[4](שמות פרק כ/ב).

 ولما كانت التشريعات من أهم محاور الاتفاق والاختلاف بين عقيدة وغيرها من العقائد، كما أنها تُعَدُّ من أكبر معززات التواصل الاجتماعي حيث يتم تداولها من مصدر استنباطها (الكتب السماوية)، تظل اللغة مؤشر الاعتدال والانحراف تجاه ذلك التواصل الاجتماعي المتعلق بالعقيدة وبالتشريع، فاللغة هي قناع العقيدة ومجسد التشريع، وهي المتحكمة في الأفكار المستوحاة من النصوص الدينية، وهي ضابطة الفكر المقارن بين الأديان، وداعمة التواصل الحضاري بين مختلف الأقطار، وذلك بمترادفاتها ومجازاتها وشبكات دلالاتها وبالكثير من علومها المتعلقة بالأصول والفنون اللغوية .

لهذا كان من الأهمية لفت الأنظار إلى دور العربية الفصحى والعبرية القديمة في نقل الثقافات عن طريق التواصل الاجتماعي من خلال القرآن الكريم والعهد القديم.

  1. الأدب الرقمي في إسرائيل

نشأته - تطوره- أثره

د/ دعاء محمد الديب 

مدرس الأدب العبري الحديث بقسم اللغات الشرقية بكلية الآداب جامعة كفر الشيخ

يعرف الأدب الرقمي بهذا الاسم نسبة إلى ارتباطه بالحاسوب، والمصطلح يتكون من كلمتين، ولعل هناك خلافًا حول المصطلح، أو خلطًا بين مصطلحات مثل: النص التفاعلي، النص الإلكتروني، النص المعلوماتي، النص المُتشعِّب، النص المتفرع، النص الفائق، فمثلا النص التفاعلي ليس الذي يكتب على الحاسوب فقط، بل تضاف إليه تقنيات الصوت والصورة والروابط المختلفة، والرابط يؤدي بك إلى رابط آخر وهكذا. ولعل الأدب الرقمي يختلف عن الأدب المطبوع في العملية الإبداعية التي تتكون من المؤلِّف والنص والمتلقي، أضف إلى هذه العملية عنصرًا جديدًا هو الحاسوب؛ حيث أصبح المتلقي جزءًا من العملية الإبداعية. ويطرح البحث عدة أسئلة مثل: بعد نشر الأدباء لأعمالهم الأدبية على الانترنت لماذا يعيدون نشرها مطبوعة؟ هل يحتاج الأدب الرقمي إلى ناقد جديد ومتلقى جديد؟ هل يحتاج الأدب الرقمي إلى تغيير الأدوار التقليدية للكاتب والمتلقي؟ هل الأدب الرقمي بحاجة إلى وعى بتقنيات الكتابة الرقمية وآلياتها؟ ذلك أن بعض الأعمال الأدبية تحتاج إلى إخراج فني أشبه بالإخراج السنيمائي.

تهدف هذه الدراسة إلى رصد تطور الأدب الرقمي في إسرائيل، وهل يختلف في قضاياه ومضامينه عن الأدب المطبوع؟ وهل كل كُتَّاب الأدب الرقمي قد أعادوا نشر أعمالهم الرقمية ورقيًا؟ وهل أفادوا عند نشرها ورقيًا من عملية التفاعل بين الكاتب والنص والمتلقي مما جعلها أكثر تعبيرا عنهم؟، وهل كان الأدب الرقمي وسيلة للترويج للعمل إلكترونيا؟ حتى ينتشر ويعرفه المهتمون ثم يتم نشره ورقيًا، وهل يتبنى بعض كتاب الأدب الرقمي في إسرائيل أيديولوجيات موجهة للآخر غير الإسرائيلي؟ وقد اعتمدت الدراسة نماذج أدبية رقمية منها مجموعة قصصية قصيرة للكاتب الإسرائيلي ألكس أبشتاين.

  1. الكلمات المركَّبة بين العبرية والعربية

مصطفى حسانين

كلية اللغات والترجمة – جامعة الملك سعود

معاراً من كلية اللغات والترجمة – جامعة الأزهر

موضوع البحث

يدور موضوع هذه الدراسة حول الكلمات المركبة في اللغتين العبرية والعربية، إذ إن الباحث قد لاحظ وجود عدد لا بأس به من الكلمات المركبة في اللغتين؛ الأمر الذي يتطلب البحث لاستقصاء الظاهرة؛ سعيا لمعرفة كنهها وسبر أغوارها.

والمقصود بالكلمات المركبة هنا؛ هو تلك الكلمات المكوَّنة في الأصل من كلمتين وربما أكثر؛ للإشارة إلى مدلول واحد؛ من أمثلة ذلك في العربية: "رأسمال، معد يكرب، حضر موت، ميكرو ثانية"، ومن أمثلته في العبرية: "בַּלְשָׁן= لُغوي أو متخصص في اللغات" والمكونة من الكلمتين "בַּעַל+ לָשׁוֹן"، "בִּנְאוּם= تدويل"، والمكونة من الكلمتين "בֵּןאם" ، "דּוּקְרָב = معركة بين عدوّين" والمكونة من الكلمتين "דּוּ+ קְרָב".

أما عن بُعد المقارنة بين اللغتين؛ فمن المعلوم ما للدراسات المقارنة من فوائد لا تخفى على أحد؛ إذ إن المقارنة تكشف أوجه القضايا وتفاصيلها في اللغتين اللتين تدور بينهما المقارنة، والمقارنة هنا بين لغتين ساميتين بينهما من أوجه الشبه ما لا يُحصى.

أهداف الدراسة

تهدف هذه الدراسة للإجابة عن التساؤلات التالية:

  • ما هي ماهية الكلمات المركبة في اللغتين؟
  • ما حدود هذا النوع من الكلمات في كلتا اللغتين؟
  • ما أنواع الكلمات المركبة في كل منهما؟
  • ما أوجه الاتفاق والاختلاف بين اللغتين في هذا الإطار؟

منهج الدراسة

فرضت طبيعة هذه الدراسة اتباع المنهج المقارن؛ الذي لا بد أن يرتكز على دراسة وصفية للظاهرة في كل لغة على حدةٍ؛ بحيث تُفضي في نهاية الأمر إلى إمكانية المقارنة بينهما، ومن ثم تحقيق أهداف الدراسة المذكورة أعلاه.

  1. مواقع التواصل الاجتماعي والنص الشعري الأردي "الفيس بوك نموذجًا"

د/ ولاء جمال سعد أحمد

مدرس اللغة الأردية وآدابها- قسم اللغات الشرقية - كلية الآداب - جامعة عين شمس

باتت مواقع التواصل الاجتماعي ظاهرة تثير الاهتمام، وخاصة الفيس بوك الذي يعد واحدًا من أهم مواقع التواصل الاجتماعي وأكبرها في العالم؛ إذ يتجاوز عدد مستخدميه المليار شخص، وإلى جانب دوره في تحقيق التواصل الاجتماعي بين المعارف والأصدقاء والأقارب، يُستخدم في مجالات عدة، منها: التسويق التجاري والترويج السياحي، وغيرها. وكان للشعر الأردي حظٌ وافرٌ بين هذه المجالات.

استقطب الفيسبوك كثيرًا من الشعراء والقراء، وأصبح قادرًا على احتواء النصوص الإبداعية والتفاعل معها، وبات النص الشعري في مواقع التواصل الاجتماعي تفاعليًا، وفي حالة شراكة حقيقية بين الشاعر والقارئ. وجعل الشعراء من صفحاتهم قناة للتواصل مع جماهيرهم، وتحولت هذه الصفحات إلى منابر للترويج لإصداراتهم الجديدة؛ لتفتح فضاءات التواصل بينهم وبين القراء. كما أُنشأت صفحات خاصة بأسماء الشعراء القدماء والمحدثِينَ، أو صفحات مختصة بعرض أشعارهم، ويوجد مئات الآلاف من القراء الالكترونيين لهذه الصفحات والمواقع.

وتجرى أيضًا على صفحات الفيسبوك عدد من اللقاءات والنشاطات الثقافية، التي تفسح المجال للمتلقين أن يتناقشوا حول النص الشعري، ويعرضوا وجهات نظرهم التي تختلف في قراءة كلٍّ منهم له. وهذا النقاش يكون على مرأى من الشاعر الذي يقف على آراءهم النقدية وعلى مواضع استحسانهم أو استهجانهم للنص.

وتسعى هذه الورقة البحثية إلى معرفةتأثير مواقع التواصل الاجتماعي، وخاصة موقع الفيس بوك في النص الشعري الأردي، ومدى قدرته على التواصل بين الشعراء والمهتمين بالشعر. وهل يخدمُ هذا الموقعُ -بما يدور فيه من مناقشات وتعقيبات، ونقد-النصَ الشعري أم لا، وهل يُحدث الحوار الحي تعديلًا في الرؤية ومسار النص. وهل هناك إبداع شعري حقيقي يأتي عبر مواقع التواصل الاجتماعي أم لا.

  1. متابعة المجتمع الإسرائيلي وأثره في تطوير قدراتنا على المواجهة

د. وائل عزالدين على

عضو هيئة تدريس بمعهد اللغات للقوات المسلحة

إن دراسة العبرية خاصة، ومتابعة مجتمع العدو على وجه التحديد يعد حائط صد قومي لتفنيد وفضح الآلة الصهيونية الدعائية في تزييف التاريخ، ومواجهة الفكر بالفكر في مجتمع مفتوح أصبح فيه العالم قرية صغيرة. وتعد رسائل التواصل الاجتماعي (فيس بوك وتويتر خاصة)، من أهم الوسائل لتداول المعلومات في العصر الحديث، وعلى الرغم من الاستخدام السلبي لتلك الوسائل؛ إلا أن دارس اللغة العبرية يستطيع الإفادة منها بشكل كبير في مجال تخصصه، مع التأكيد على ضرورة تجنب التواصل المباشر مع الطرف الآخر، فإن متابعة ما يثار على الصفحات العامة وصفحات الصحف والقنوات التليفزيونية تمكن دارس اللغة العبرية من استخدام جميع المهارات من السماع إلى القراءة بالإضافة إلى المشاهدة، وهي أهمها على الإطلاق نظرًا لصعوبة ممارسة اللغة العبرية مع أصحاب اللغة، والتي تتيحها بسهولة وسائل التواصل الاجتماعي، وتعد المشاهدة أحد أهم الوسائل التي يحتاجها دارسو اللغة العبرية خاصة، نظرًا لكون التواصل المباشر مع أهل اللغة في مجال اللغة العبرية قد يمثل خطرًا على الطلاب في مقتبل حياتهم لأنه قد يعرضهم إلى التورط في بعض المشكلات التي تؤثر على سلامتهم وإمكانية عمل العدو على استغلال عدم توافر الخبرة الكافية لدى شباب في مقتبل العمر.

كما أن هناك الكثير من القضايا التي تثار على الساحة الإعلامية داخل مجتمع العدو وتمثل متابعتها أهمية كبرى، وفي هذا الإطار ستكون فرصة جيدة إن استطعنا استعراض بعض النماذج التي تتضمن متابعة قضايانا على صفحات التواصل الاجتماعي في إسرائيل والتطبيق عليها، لكونها تمس ماضينا وحاضرنا ومستقبلنا، وتفيد في فهم توجهات العدو وتوقع شكل الصراع في المستقبل معه، وحينها سيجد الدارس نفسه أمام مجتمع يعتقد أننا لا نقرأ ولا نسمع ما يقولونه، وحينها تتاح الكثير من المعلومات التي تبصرنا بكيفية سير الأمور في المستقبل.

  1. ( شبكة التواصل الاجتماعي (فيس بوك) ودورها في دعم دارسي اللغة الأردية)

الصفحة الشخصية للأديبة الباكستانية سلمى أعوان أنموذجًا

 أ/ أحمد السيد علي رضوان

المدرس المساعد بقسم اللغة الأردية وآدابها-كلية اللغات والترجمة-جامعة الأزهر

شهد العالم أوائل القرن الحالي نوعًا جديدًا من التواصل بين البشر في فضاء إلكتروني افتراضي، قرّب المسافات بين الشعوب، وألغى الحدود وزَاوجَ بين الثقافات، وسمي هذا النوع من التواصل "شبكات التواصل الاجتماعي" وقد تعددت هذه الشبكات، واستأثرت بجمهور واسع من المتلقين، ولعبت الأحداث السياسية والطبيعية في العالم دورًا بارزًا في التعريف بها، وبالمقابل كان لهذه المواقع أيضًا فضلٌ في إيصال الأخبار السريعة والرسائل النصية ومقاطع الفيديو، وتيسير سبل التعاون والتواصل بين الشعوب في مجالات شتَّى، لا سيما في مجال دراسة اللغات والترجمة على المستويين المحلي والعالمي؛ حيث سهَّلت هذه الشبكات التواصل بين أهل اللغات الأجنبية ودارسيها من الدول الأخرى، الأمر الذي ساعد في شهرة هذه الشبكات وانتشارها، ولعل أشهرها موقع هو (فيس بوك) الذي أنشأه طالب أمريكي عام 2004م بغية جمع أصدقاء الجامعة تحت مظلة يتواصلون من خلالها فيما بينهم، فإذا بشبكته تبتلع، مع مرور الوقت، حوالي مليار ومائتي مليون مشترك عبر العالم، أغلبهم من فئة الشباب؛ إذ أكدت الإحصائيات بأنهم يشكلون 80 بالمئة من مرتادي الموقع، ويرجع ذلك إلى ما يوفره الموقع من خيارات واسعة، يرى فيها الشباب فضاء افتراضيًا لا يعترف بالحواجز، ولقد تطور التواصل الكوني من خلال الإنترنت حتى أصبح باستطاعة البشر أن يتواصلوا بسرعة أكبر زمانيًا ومكانيًا، ومن نتائج هذا التطور ما أحدثته وسائل التواصل الاجتماعي التي اقتحمت خصوصيات كل فرد فينا؛ فأصبح الإنسان يرى ما لم يكن يرى، ويغرف من المعرفة في دقائق ما يحتاج الوصول إليه سنين، واقتربت الثقافات من بعضها كثيرًا. ومن هنا جاءت فكرة هذه الورقة البحثية التي يعرض فيها الباحث لتجربة شخصية مر بها؛ حيث دفعته الدراسة في أطروحة الماجستير إلى تناول حياة أديبة باكستانية كبيرة لها نتاج أدبي ليس بالقليل، وكان لشبكة الفيس بوك دور كبير في التواصل مع هذه الأديبة والاستفادة المباشرة منها، مما أفاد الباحث فوائد جيدة في بحثه، وتتضمن الدراسة إلقاء الضوء على مفهوم التواصل الاجتماعي وعرض ما فيه من جوانب ايجابية وسلبية، ودراسة حالة لتجربة شخصية عاشها الباحث في التعرف على الأديبة الباكستانية المعاصرة سلمى أعوان من خلال شبكة الفيس بوك.

  1. الخيال العلمي السياسي في الأدب التركي ودوره في هندسة المستقبل

أ/ علاء طه يسين محمود 

الباحث في مرحلة الدكتوراه -كلية الآداب-جامعة عين شمس.

سعى الأدب إلى تدوين وتوثيق مجهودات الفكر الإنساني في تخيُّل المستقبل، وتصوره منذ القدم إلى أن تبلور، وتشكل نوع أدبي اختص بإنتاج، وتوليد الرؤى، والأفكار الإستشرافية التي تعيد صياغة مستقبل المجتمعات والنُظُم بشكل يتيح الإستفادة بأقصى قدر من أية فرص قد تتاح مستقبلًا، أو تجنب أية مخاطر محتملة قد تقع؛ مستغلًا قدرة الأدب على التأثر في توجيه الأمم، وتشكيل وجدانها من خلال التأثير في الوعي الجمعي لها، محفزًا لخلق نوع جديد من الثقافة، وتصوير مستقبل أفضل يسعى أفراد المجتمع إلى تحقيقه. وهو ما أطلق عليه أدب الخيال العلمي السياسي والذي يعرف بأنه؛ فرع من فروع أدب الخيال العلمي، وهو مَعنِيٌّ بتخمين، وتصَوُّرِ شكل المستقبل السياسي بشكل إبداعي، طبقا لما يمكن أن يحدث مستقبلًا من تغيرات محتملة قد تحدث في النظم، والمؤسسات، والعلاقات، والحالات، والأفكار السياسية في المستقبل القريب، أو البعيد سواء على الساحة المحلية، أو الإقليمية أو العالمية (فهو يتنبأ بالمستقبل من منظور مستقبلي وليس بالمنظور الآني)؛ ويتضمن البحث عدة مسائل:

أولا: أدب الخيال العلمي السياسي مفهومه ونشأته وتاريخه.

ثانيا: الخيال العلمي السياسي في الأدب التركي.

ثالثا: أهمية الخيال العلمي السياسي ودوره في هندسة المستقبل. 

رابعا: مقومات الخيال العلمي السياسي وسبل تنميته.

خامسا: معوقات الخيال العلمي السياسي.

  1. الصورة الشعرية عند الشاعر التركي «جاهد صدقي طارنجي Cahit Sıtkı Tarancı»

في ديوانه «عمر الخامسة والثلاثين Otuz Beş Yaş»

أ.م. د/ صبري توفيق همام أبو العلا 

أستاذ مساعد اللغة التركية وآدابها بكلية الألسن -جامعة سوهاج.

إن الأدب التركي الحديث يزخر بالعديد من الشعراء الذين أثروا التراث الأدبي الشعري بشعرهم ومخيلاتهم الخصبة المليئة بالصور الشعرية التي تبين مهارة الشاعر التركي في دقة التصوير، ومن خلال التجول في الشعر التركي الحديث يقع نظرنا على شاعر تميز بغزارة إنتاجه الشعري وتعدد أغراضه وكثرة معانيه وصوره، ألا وهو الشاعر "جاهد صدقي طارنجي" الذي تركز الدراسة على تناول الصورة الشعرية عنده؛ حيث يمتاز شعره بالخيال البارع في رسم الصورة الشعرية التي تثري السياق. وتهدف هذه الدراسة إلى تناول الجماليات البلاغية للصورة الشعرية من حيث الصورة التشبيهية والصورة الاستعارية والصورة الكنائية. 

ويعد موضوع الصورة الشعرية في دراسات الأدب التركي الحديث من الموضوعات التي تستخدم بكثرة لكون موضوع الصورة يتناول بلاغة الأدب وفنونه، مما جعله من أهم موضوعات الدراسات الحديثة في الأدب التركي.وتنتهج الدراسة المنهج النقدي ومنهج العلوم الجمالية لما فيه من إيضاح للمعنى الجمالي الذي يتواجد في ديوان «Otuz Beş Yaş»، وهو المنهج الذي يهتم بالجمال الأدبي لما يحتويه العمل الأدبي من فلسفة جمالية في الديوان موضع الدراسة.

وتركز الدراسة على الصورة التي هي أساس كل عمل أدبي وفني، وبالتالي يقوم الشاعر بتركيبها وزخرفتها في عمله الأدبي لإظهار القيم الفنية في لغته وأدبه من خلال قالب خاص به، وفيها يعرض مقصده من المعنى الذي يعبر عنه بطريقة غنية بالقيم الفنية. والهدف من الصورة الشعريةفي الأدب بشكل عام هو إيصال المعنى إلى القارئ والمتلقي في قوالب لغوية ذات طابع خاص يسير عليه الأديب والشاعر.ولكل مجتمع من المجتمعات صوره التي يعبر عنها من خلال أدبه وفنه...

وتسعى هذه الدراسة إلى إظهار الصورة الشعرية عند الشاعر التركي جاهد صدقي في ديوانه «Otuz Beş Yaş»وحصر الصور الشعرية والبلاغية من تشبيه واستعارة وكناية التي احتواها هذا الديوان. لذا كانت دراسة الصور الشعرية في الشعر التركي الحديث من الأهمية بمكان حيث «تعتبر الصورة معرضًا لإظهار قدرة الشاعر على استخدام ملكته التخيلية».

وتكمن أهمية الدراسة في أنها تتناول الصور الشعرية في ديوان «Otuz Beş Yaş» والتي تنوعت أشكالها وأنواعها في شكل إبداعي للشاعر جاهد صدقي جعله يتميز عن أقرانه من الشعراء إبان تلك الفترة الأدبية في الشعر التركي الحديث، ولا سيما أن الشعراء العثمانيين كانوا يهتمون بجمالية النص الأدبي التي يغفلها العديد من الشعراء في العصر الحديث؛ إلا أن الشاعر سعى جاهدًا لأن يجمع بين الشعر القديم في شكله الجمالي والشعر الحديث في نظمه الحر. وتنقسم الدراسة إلى: 

- الصورة التشبيهية.     - الصورة الاستعارية.    - الصورة الكنائية.

- إظهار مايتمتعبهالأدبالتركي الحديثمنشأنرفيع، ومكانةمرموقةبينالآداب الأخرى، فهوالأدبالأصيلالذييمثلكيان المجتمع التركي، ولذلككانلابدمندراسته، دراسة نقدية، تكشفجوانبالإبداعفيه.

-  أن الأدب التركي ما زالبحاجةإلىإبراز خصائصه الكامنة،ومنوسائلإبرازه:دراسةأجناسه المختلفةدراسةعلميةعميقة،ولاسيما جمالياتهذهالأجناس،وأهمهاالصورةالشعرية.

- كشف النقاب عن أهم الشعراء البارزين المبدعين في الأدب التركي الحديث وخاصة جاهد صدقي،وإيصالما في صور جاهد صدقي الشعرية إلى كل من يهتم بالأدب التركي.

- الوقوف على جانب مهم في الدراسات النقدية الحديثة التي تهتم بدراسة الشكل والمضمون في الشعر التركي الحديث.

- رصد أشكال الصور الشعرية في الشعر التركي الحديث من منظور نقدي حديث يظهر هذه الصور الشعرية التي تتجلى في أصالة مصدرها ودقة توظيفها فنيا وفكريا بما يتواءم مع روح العصر الحديث.

  1. تأثير وسائل التواصل الاجتماعي على اللغة الأردية

أ.م.د منى حندقها أحمد

كلية الدراسات الإنسانية - جامعة الأزهر- قسم اللغة الأردية وآدابها

تعد وسائل التواصل الاجتماعي التي تُعرف بـ "السوشيل ميديا" من أحدث الوسائل الإعلامية التي تؤكد على ترسيخ سياسة العولمة وتمكنها من كافة القوى السياسية والاقتصادية والاجتماعية والحضارية، والتي من الطبيعي أن يكون لها أثرها على اللغة وعاء الفكر. ومثل كافة لغات العالم تأثرت اللغة الأردية بهذه التغيرات التي طرأت على العالم في العقود الأخيرة. وعليه فإن هذه الدراسة سوف تسلط الضوء على مدى تأثير وسائل التواصل الاجتماعي على صياغة لغة دخيلة على اللغة الأردية بما تحمله من ألفاظ مستحدثة جاءت نتيجة الانفتاح التكنولوجي. ومن ثم فإن هذه الدراسة تطمح إلى الإجابة على سؤالين هما كالتالي :

  1. كيف أثرت وسائل التواصل الاجتماعي على اللغة الأردية ؟
  2. ما هو مستقبل اللغة الأردية في ظل التطور السريع والمتنامي للتقنيات التكنولوجية الحديثة؟
  1. أثر استخدام الشبكة العنكبوتية على اللغة التركية

أ.م.د. حازم سعيد محمد منتصر ‏ 

رئيس قسم اللغة التركية

يهدف البحث إلى توضيح أثر استخدام الشبكة العنكبوتية (الإنترنت) على اللغة التركية من ‏خلال دراسة وصفية للغة المستخدمة في مختلف مواقع التواصل الاجتماعي. فالشبكة ‏العنكبوتية (الانترنت) ليست مجرد ثورة تقنية فحسب بل هي ثورة اجتماعية أثرت على شتى ‏نواحي الحياة في كل بلدان العالم ، ولا جرم أن اللغة تقع في قلب هذه الثورة الاجتماعية ‏للإنترنت، فقد تبلورت في فضاء الشبكة العنكبوتية لغة تركية يمكن أن نطلق عليها تركية ‏الكترونية تعتمد في الأساس على لغة المحادثة غير أنها تضم مصطلحات وكلمات ‏واختصارات جديدة وأساليب جديدة في التعبير والتوكيد وخلافه، كما ضمت العديد من ‏الكلمات والاختصارات الإنجليزية التي لا أصل له في التركية، كما أن استخدام الانترنت أدى ‏إلى تغيير في نطق وكتابة العديد من الكلمات التركية استخدامها طبقا لقواعد الإنجليزية، ومن ‏ثم فهناك حاجة ماسة إلى عمل دراسات متعمقة عن انعكاسات الانترنت على اللغة التركية ‏وهذا الأمر لم نصادف عنه أي بحث في العربية كما أن الأبحاث التركية في هذا الموضوع ‏نادرة للغاية وتحتاج إلى تجديد مستمر. ‏

 

[1]https://baike.baidu.com/item/微信/3905974?fr=aladdin

[2]) وكانت الأرض كلها لسانًا واحدًا ولغة واحدة ... لذلك دعي اسمها بابل لأن الرب هناك بلبل لسان كل الأرض، ومن هناك بددهم الرب على وجه كل الأرض (تكوين 11/ 1: 9)

[3]) سورة البينة: الآية 5.

[4]) لا يكن لك آلهة أخرى أمامي (خروج 20 /2)

طباعة
Tags:

Please login or register to post comments.

اخر الاخبار

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر
السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل...

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر

السيرة الذاتية للسيد الدكتور/ صالح شبل عبد المعطي نمر المدير التنفيذي لوحدة ضمان الجودة بكلية اللغات والترجمة
حفل استقبال الطلاب الجدد
حفل استقبال الطلاب الجدد

حفل استقبال الطلاب الجدد

حفل استقبال الطلاب الجدد

حفل استقبال الطلاب الجدد

تحت رعاية السيد الأستاذ الدكتور/ محمد عزت سعيد غازي , عميد كلية اللغات والترجمةنظم مكتب رعاية الشباب بالكلية اليوم الاحد ١٦ أكتوبر ٢٠٢٢م حفل استقبال الطلاب الجدد , والذي تضمن لقاء السيد الأستاذ...
زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها بالكلية اليوم
زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها بالكلية اليوم

زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة...

زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها بالكلية اليوم

زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها بالكلية اليوم

زيارة وحدة ضمان الجودة لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها بالكلية اليوم
لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي عميد الكلية اليوم مع السادة أعضاء هيئة التدريس والهيئة...
لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي عميد الكلية اليوم مع السادة أعضاء هيئة التدريس والهيئة...

لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي...

لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي عميد الكلية اليوم مع السادة أعضاء هيئة التدريس والهيئة...

لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي عميد الكلية اليوم مع السادة أعضاء هيئة التدريس والهيئة...

لقاء سعادة الأستاذ الدكتور محمد عزت غازي عميد الكلية اليوم مع السادة أعضاء هيئة التدريس والهيئة المعاونة بأقسام اللغة الألمانية والإفريقية والفارسية والتركية .. لتنسيق التعاون بين هذه الأقسام فيما يخص...
:إعلان مهم
:إعلان مهم

:إعلان مهم

:إعلان مهم

:إعلان مهم

أعلن الدكتور محمد غازي، عميد كلية اللغات والترجمة جامعة الأزهر بالقاهرة، أنه تقرر إجراء اختبار القدرات التحريرية للطلاب المتقدمين للالتحاق بكليات اللغات والترجمة جامعة الأزهر بالقاهرة بمختلف الأقسام...
إعلان مهم
إعلان مهم

إعلان مهم

إعلان مهم

إعلان مهم

إعلان مهم وعاجل
إعلان مهم وعاجل

إعلان مهم وعاجل

إعلان مهم وعاجل

إعلان مهم وعاجل

بناء على تعليمات الأستاذ الدكتور نائب رئيس الجامعة لشئون التعليم والطلاب فقد تقرر تحديد يوم الأربعاء الموافق ٢٥/٨/٢٠٢٢ هو آخر يوم لعقد إختبار القدرات لكلية اللغات والترجمة حتى وإن كان محدد للطالب...
اليوم الثاني لاختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة
اليوم الثاني لاختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

اليوم الثاني لاختبارات القدرات للطلاب...

اليوم الثاني لاختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

اليوم الثاني لاختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة
بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في...

بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بكلية اللغات والترجمة

بدء اختبارات القدرات للطلاب الراغبين في الالتحاق بالكلية اليوم بمقر المركز الهندي بمبنى المعامل المركزية التابع لكلية العلوم بالجامعة
متابعة امتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي ..2021/2022م
متابعة امتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي ..2021/2022م

متابعة امتحانات الفصل الدراسي الثاني...

متابعة امتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي ..2021/2022م

متابعة امتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي ..2021/2022م

جانب من المتابعة المستمرة لسير الامتحانات, وذلك للاطمئنان على سير العملية الامتحانية، والتأكيد من عدم وجود أي معوقات... ومتابعة الإجراءات الاحترازية والوقائية حرصًا على توفير بيئة آمنة، وجو نفسى مناسب...
رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات ويشيد بكلية اللغات والترجمة
رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات ويشيد بكلية اللغات والترجمة

رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات...

رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات ويشيد بكلية اللغات والترجمة

رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات ويشيد بكلية اللغات والترجمة

رئيس جامعة الأزهر يتفقد لجان الامتحانات ويشيد بكلية اللغات والترجمةفي إطار متابعته الدائمة والمستمرة لجميع أعمال الامتحانات بمختلف كليات جامعة الأزهر بالقاهرة والأقاليم؛ للوقوف على الاستعداد والجاهزية...
زيارة وحدة ضمان الجودة
زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

جانب من اجتماع وحدة الجودة ببرنامج اللغة الفارسية بالكلية وتحديد الاحتياجات للمرحلة المقبلة..
السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/ أيمن إبراهيم الأعصر
السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/ أيمن إبراهيم الأعصر

السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/...

السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/ أيمن إبراهيم الأعصر

السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/ أيمن إبراهيم الأعصر

السيرة الذاتية للسيد الأستاذ الدكتور/ أيمن إبراهيم الأعصروكيل كلية اللغات والترجمة لشؤون التعليم والطلاب باللغتين العربية والفرنسية.
جانب من استعدادات كلية اللغات والترجمة لإمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022
جانب من استعدادات كلية اللغات والترجمة لإمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022

جانب من استعدادات كلية اللغات والترجمة...

جانب من استعدادات كلية اللغات والترجمة لإمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022

جانب من استعدادات كلية اللغات والترجمة لإمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022

إعلان مهم : تعليمات بخصوص إمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022م
إعلان مهم : تعليمات بخصوص إمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022م

إعلان مهم : تعليمات بخصوص إمتحانات الفصل...

إعلان مهم : تعليمات بخصوص إمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022م

إعلان مهم : تعليمات بخصوص إمتحانات الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/2022م

إعلان مهم جدا : أماكن وأرقام الجلوس لامتحانات الفصل الدراسي الثاني
إعلان مهم جدا : أماكن وأرقام الجلوس لامتحانات الفصل الدراسي الثاني

إعلان مهم جدا : أماكن وأرقام الجلوس...

إعلان مهم جدا : أماكن وأرقام الجلوس لامتحانات الفصل الدراسي الثاني

إعلان مهم جدا : أماكن وأرقام الجلوس لامتحانات الفصل الدراسي الثاني

إعلان مهم : جداول امتحان الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/ 2022
إعلان مهم : جداول امتحان الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/ 2022

إعلان مهم : جداول امتحان الفصل الدراسي...

إعلان مهم : جداول امتحان الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/ 2022

إعلان مهم : جداول امتحان الفصل الدراسي الثاني للعام الجامعي 2021/ 2022

إعلان مهم
إعلان مهم

إعلان مهم

إعلان مهم

إعلان مهم

زيارة وحدة ضمان الجودة
زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة

زيارة وحدة ضمان الجودة بالكلية لبرنامج اللغة الإنجليزية وآدابها لمتابعة ما تم إنجازه من أعمال.
إعلان البعثات فبراير ٢٠٢٢
إعلان البعثات فبراير ٢٠٢٢

إعلان البعثات فبراير ٢٠٢٢

إعلان البعثات فبراير ٢٠٢٢

إعلان البعثات فبراير ٢٠٢٢

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر

السيرة الذاتية للسيد الدكتور / صالح شبل عبد المعطي نمر

  • 18 أكتوبر 2022
  • الكاتب: lantran-cairo
  • عدد المشاهدات: 100
  • 0 تعليقات
حفل استقبال الطلاب الجدد

حفل استقبال الطلاب الجدد

  • 16 أكتوبر 2022
  • الكاتب: lantran-cairo
  • عدد المشاهدات: 129
  • 0 تعليقات
متابعة أعمال الجودة اليوم ببرنامج اللغة الفرنسية بالكلية

متابعة أعمال الجودة اليوم ببرنامج اللغة الفرنسية بالكلية

  • 27 سبتمبر 2022
  • الكاتب: lantran-cairo
  • عدد المشاهدات: 183
  • 0 تعليقات
RSS

الإستعلام عن البريد الالكتروني للطلاب

 

                                                  

Copyright 2022 by Al-Azhar Al-Sharif Terms Of Use Privacy Statement
Back To Top